بے چین منتظر


کویی ہے کہ جسے اک پل قرار نہیں

کبھی مشرق کبھی مغرب شمال و جنوب

ساری زمین اسکے قدموں کی متبرک خاک

مگر ہایے اسکا نہ ختم ہونے والا سفر

عارف کی قدسی سانس اسکی مسکراہٹ

مظلوم و بےکس کی آہ اسکا اشک

با معرفت ،باایمان انصار کی منتظر ایک آنکھ

سوچتی ہے کب ختم ہوگا مرا یہ بے چین سفر