تیرے دم سے چین کی سانسیں سداۓ زندگی

آفتاب حق پس صد پرده اسرار حق

تجھ هی سے مطلع ازهان پر اظهار حق

یوم ندعو کے اشاروں میں تری عظمت کی بات

غیب پر ایمان لانا اتقیا کی کاﺋنات

دنیاۓ مکفور کیا دیکھے ترے انوار کو

کون پھاندے اس جهالت کی کڑی دیوار کو

تو که وه هے کارفرما صرف احساسات پر

هے ترا دست تصرف دهر کے حالات پر

چشم موجودات کرتی هے سدا تجھ کو تلاش

منتظر هے وقت ساکن هے مثال دور باش

آکہ اب انسانیت کی تلخ هے هونٹوں پہ جاں

زندگی لیتی هے گویا اب نزع کی هچکیاں

ذھن سے جعفر نکلتی هیں سدا چنگاریاں

دیکھا هوں حق په جب باطل کی مینا کاریاں